بعض مغربی اور عرب ذرائع ابلاغ نے اس دن کی اصلی تصویر کے پیچھے اپنی پسند کی تصاویر ڈھونڈنے کی کوشش کی اور بعض نے یہ واقعہ توڑ مروڑ کر پیش کیا بعض نے روشن تصاویر کو نظر انداز کرکے اس تصویر میں کوئی کالا دھبہ تلاش کرنے کی کوشش کی اور بہر صورت اپنے مخاطبین کو ایران کی وہ تصویر پیش کرنا چاہی جس کے لئے وہ لمحہ شماری کرتے رہے تھے مگر حقیقت کو چھپانے میں کوئی بھی کامیاب نہ ہوسکا۔ گو کہ بعض ذرائع ابلاغ نے دیانتداری کا دامن کلی طور پر ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیا۔ یہاں ہم 22 بہمن کے حوالے سے بیرونی ذرائع کی بعض جھلکیاں دکھانا چاہتے ہیں گو کہ یہ جھلکیاں دیکھنے سے قبل بہتر ہے کہ قارئین و صارفین ذیل کی رپورٹ پر ضرور نظر ڈالیں:
ایرانیوں کا شاہکار 2010 / ویڈیو و تصاویر

سب سے پہلے پاکستانی اخبارات جنہوں نے مغرب اور عرب ممالک کا نہیں صحافتی ضمیر کا راستہ چنا:
روزنامۂ جنگ:
اس روزنامے نے اپنے پہلے صفحے پر 11 فروری کے روز کروڑوں ایرانی عوام کے حضور کی ایک جھلک تصویر کی صورت میں دکھائی اور لکھا: ایرانی عوام نے انقلاب اسلامی کی کامیابی کی سالگرہ کے سلسلے میں 11 فروری کی تکریم اور انقلاب اسلامی کے اہداف سے تجدید بیعت کرتے ہوئے آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور جمہوری اسلامی نظام کے حق میں نعرے لگائے۔
دی نیشن:
اس روزنامے نے بھی ایران کا سہ رنگی پرچم لہراتے ہوئے ریلی میں شریک افراد کی چند تصاویر چھاپی تھیں اور تہران کے میدان آزادی میں موجود افراد کے حوالے سے لکھا تھا: اسلام اور انقلاب کے دشمن عوام کی پرشکوہ موجودگی کی وجہ سے مأیوس ہوگئے ہیں۔
نوائے وقت:
نوائے وقت نے لکھا: 22 بہمن کی ریلیوں میں کروڑوں ایرانیوں کی موجودگی سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بدستور اپنے اسلامی انقلاب کے حامی ہیں۔
اس اخبار نے مزید لکھا: احمدی نژاد دنیا کے مسلمانوں کے لئے امریکہ اور مغربی ممالک کی دھونس دھمکیوں کے سامنے استقامت اور ڈٹ کر رہنے کی علامت بن گئے ہیں۔
روزنامہ ڈان:
ڈان نے گذشتہ اکتیس برسوں میں ایران کی پیشرفت و ترقی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایرانی صدر کے حوالے سے لکھا: ملت ایران کی زبردست استقامت کی بدولت اسلامی جمہوریہ ایران آج دنیا کے نیوکلئیر ممالک کے زمری آکھڑا ہوا ہے۔
جیو، دنیا، آج، سماء و دیگر پاکستانی ذرائع نے سیاسی تجزیہ نگاروں کے حوالے سے ایران کے جشن انقلاب میں ایرانی عوام کی شرکت کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ: اسلامی جمہوری نظام کروڑوں عوام کی حمایت سے بہرہ مند ہے اور امریکہ کو اس حقیقت کے پیش نظر ایران کے بارے میں اپنی خارجہ پالیسی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی اور امریکیوں کو اس ملک کو کمزور کرنے کے لئے چھوٹے چھوٹے گروہوں کی کامیابی کے حوالے سے خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔
بہت اچھا لکھا ان اخباروں نے BBC ، VOA یا العربیہ کی چاشنی سے بالکل پاک اور حقیقت کی چاشنی سے بھرپور لکھا ۔۔ ماشاء اللہ بھئی ۔ کاش کہ اندر کی باتوں کے بارے میں بھی حقائق کو بے دھڑک لکھتے اور آشکار کرتے ۔۔ اندرونی سوالات بھی تو بہت ہیں جن کا جواب اس ملک کا مستقبل روشن کرنے کے لئے ضروری ہے اور عوام ان کے جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔

مشرقی ایشیا والوں نے بھی لکھا
مشرقی اور جنوب مشرقی ایشیا کی ذرائع ابلاغ منجملہ اخبارات، ٹیلی ویژن چینلز، ریدیو سروسز نے بھی ایرانی عوام کے شاہکار حضور کو کوریج دی:
ملائیشیا
ملائشیا کی آر ٹی ایم ٹی وی چینل نے اپنی نیوز سروس کے تمام تر حصوں میں ایرانیوں کے جشن افتخار کی مختلف النوع تصاویر اپنے ناظرین کے سامنے پیش کردیں اور خبریں بھی شائع کیں۔
چینل تھری:
اس چینل نے کہا: انقلاب اسلامی کی سالگرہ کے روز ایرانیوں کی ریلی گذشتہ برسوں سے کہیں زیادہ بری اور وسیع تھی۔
روزنامہ نیوز اسٹریٹس ٹائمز:
اس روزنامے نے ایران کی جوہری پیشرفت کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر احمدی نژاد کی تقریر کو کوریج دی۔